Logged in as Guest | Group "Guests" | RSS    Log out     
  فرماتے ہیں ۔یہ حضرت باہو۔پڑھ اللہ ھو پڑھ اللہ ھو۔۔۔اگر رب سے ملناچاہتا ہے تو۔۔۔۔۔پڑھ اللہ ھو پڑھ اللہ ھو۔۔۔۔۔پڑھ اللہ ھو، پڑھ اللہ ھو ۔۔۔۔دم جو لے تو اس طرح۔۔۔۔ہووے اند ر ،اللہ ، باہر ، ھو۔۔۔۔پڑھ اللہ ھو، پڑھ اللہ ھو۔۔۔۔۔رکھ توں تصور میں ایسے۔۔۔۔کُھلے سری خفی اللہ ھو۔۔۔۔۔پڑھ اللہ ھو۔۔۔پڑھ اللہ ھو۔۔۔۔قائم کر تو اللہ کو۔۔۔۔اور ماسوی کو جانے دو۔۔۔۔پڑھ اللہ ھو۔۔۔پڑھ اللہ ھو ۔۔۔۔ہستی کو اپنی کر فناہ۔۔۔۔۔۔رکھ باقی اللہ ، اللہ ھو۔۔۔۔پڑھ اللہ ھو ،پڑھ اللہ ھو۔۔۔۔چار عنصر کا ڈھیر بنا۔۔۔۔اور اس کو جلاوے اللہ ھو۔۔۔پڑھ اللہ ھو ،پڑھ اللہ ھو ۔۔۔۔۔فرش سے لے کر عرش تک،،کر نور کی لاٹ تصور تو۔۔۔۔۔پڑھ اللہ ھو ،پڑھ اللہ ھو،،نور ہی نور تو پاےگا۔۔۔۔۔جب دیکھے نظر اٹھا کر تو۔۔۔۔۔پڑھ اللہ ھو، پڑھ اللہ ھو۔۔۔۔
اہم اجزاَ

پولنگ
Rate my site
Total of answers: 38

شمار کنندہ

Total online: 1
Guests: 1
Users: 0

تلاش کریں

لاگ ان فورم
E-mail:
Password:

 تصور یعنی مراقبہ 

تصور یا مراقبہ کی تعریف :۔

 مراقبہ یا تصور،جس کو انگریزی میں میڈیٹیشن کہا جاتا ہے اور اگر اسی متبادل کو ہم پلہ برائے لفظِ مروجہ عربی ، فارسی اور اردو تسلیم کر لیا جائے تو پھر مراقبہ کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے کہ ؛ مراقبہ ایک ایسی عقلی تادیب  کا نام ہے کہ جس میں کوئی شخصیت ماحول کے روابطِ حیات سے ماورا ہو کر افکارِ عمیق کی حالت میں چلی جائے اور اندیشہ ہائے دوئی سے الگ ہوکر سکون و فہم کی جستجو کرے۔ یعنی یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ فکرِ آلودہ سے دور ہوکر فکرِ خالص کا حصول مراقبہ کہلاتا ہے۔ میڈیٹیشن کو تاریخ اسلام کے پس منظر میں دیکھا جائے تو لفظ مراقبہ کا درست متبادل تسلیم نہیں کیا جاسکتا، اسلام میں آج کے دور میں  شامل مختلف طریقہ ہائے کار کا کوئی تصور نہیں ہے؛ عبادت میں خشوع و خصوع ہی اصل میں درست طور پر وہ طریق کار ہے کہ جس کی اسلام میں وضاحت ملتی ہے۔ عبادت میں توجہ اور خشوع و خصوع کے علاوہ کسی دیگر طریقے سے مراقبہ کو اسلام کا جز نہیں کہا جاسکتا۔

اصل الکلمہ
مراقبہ ، عربی لفظ رقب کی اصل الکلمہ سے مشتق لفظ ہے جس کے معنی بنیادی طور پر دیکھنے، توجہ دینے وغیرہ کے آتے ہیں اور اسی سے اردو میں راقب اور رقیب کے الفاظ بھی ماخوذ کیئے جاتے ہیں[1]۔ مراقبہ کا لفظ اس اصل الکلمہ کے اعتبار سے اپنے ذہن کی گہرائیوں میں دیکھنے یا اپنی عقل کو دیکھنے کے قابل بنانے کے تصور میں لیا جاسکتا ہے۔
وضاحت
مراقبہ انسان کا اپنی خودی یا ذات میں گہرائی کی طرف ایک سفر ہے جس سے انسان اپنے اندر (باطن) میں اپنا اصلی گھر  یا فکر و سوچ کا ایک خاص مقام تلاش کر سکتا ہے۔ مراقبہ چونکہ ذہن کی ایک نفسیاتی کیفیت ہے اور اس کا انسانی شعور  سے گہرا اور براہ راست تعلق ہوتا ہے، اس لیئے کسی بھی رنگ و نسل سے تعلق اور تعلیم یافتہ و غیر تعلیم یافتہ ہونے کی مراقبہ میں کوئی قید نہیں ہے گویا مراقبہ سب کے لئے ایک جیسا فکری عمل ہے۔ مراقبہ ، مراقب (شخصیت) کی توجہ اس کے باطن (ماحول کے اثرات سے دور یکسوئی) کی طرف لے جانے کا موجب بنتا ہے اور اس طرح یکسوئی سے کی جانے والی فکر کے دوران انسان کی توجہ چونکہ مختلف خیالات میں بکھرے اور بھٹکے ہوئے شعور سے الگ ہوکر کسی ایک بات پر یکسوئی سے مرتکز ہو جاتی ہے لہذا ذہنی و نفسیاتی طور پر انسان ایک قسم کی حالتِ سکون پہ مقیم ہو جاتا ہے۔ اس بات کو یوں بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ مراقبے سے انسان کی توجہ؛ مختلف خیالات میں منتشر شعور (مجازی مراکز) کے بجائے کسی ایک فکر پر مرتکز شعور (حقیقی مرکز) سے مربوط ہو جاتی ہے ۔ اگر تمام دنیاوی خیالات سے الگ ہوکر محض عبادت پر توجہ کی جائے تو عبادت میں خشوع و خضوع حاصل ہوتا ہے جس سے انسان مادی تصورات سے جدا ہوکر دینی علم میں اضافہ کر سکتا ہے اور کم از کم اسلام میں اسے خاص طور پر مراقبہ کے نام سے تعبیر نہیں کر سکتے ہیں کیونکہ یہ دنیاوی خیالات سے دور رہ کر خود کو اللہ کے سپرد (عبادت میں مشغول) کر دینے کی کیفیت ہے، عبادت میں طاری اس ذہنی کیفیت کو لغتی معنوں مراقبہ ہی کہیں گے لیکن اسلام میں مراقبہ (اپنے رائج تصور میں)نہ تو عبادت کا حصہ ہے اورنہ ہی عبادت کے لیئے لازم ہے۔ اس کے برعکس ایسے مذاہب بھی ہیں کہ جن میں مراقبہ کو ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے، جیسے بدھ مت اور ہندو مت وغیرہ۔ ۔حقیقی مراقبہ کا راز صرف ذہنی تصور کے ساتھ منسلک ہے اور اس تصور سے مراد مراقبے کی ابتدائی اور انتہائی سطحوں پر شعور میں بیدار افکار سے ہوتی ہے۔ مراقبہ نفسیاتی علم کی وہ قسم ہے جو انسان کی شخصیت ، روح اور ذات کو آپس میں یکجا کر دے اور ان سب کو ایک نقطہ سے مربوط کر کے کثرت و دوئی سے آزادی کا احساس پیدا کر دے ۔ مراقبہ ، ظاہری زندگی کے مستقل نہ ہونے کا احساس پیدا کرتا ہے اور زندگی کی حقیقت کو قریب سے سمجھنے اور اسکی ظاہری نا پائداری کے احساس کو اجاگر کرتا ہے۔ مراقبہ کو ایک ذہنی ورزش کا نام دے سکتے ہیں جس کے باعث وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے اثرات نمایاں ہوتے چلے جاتے ہیں، جتنا زیادہ اس عمل (مشق / ریاض) کو کیا جائے اتنی زیادہ اس میں مہارت حاصل ہو گی۔
مراقبہ کا عمل اور تاریخ انسانی
اس زمین پر ظہور انسانی سے ہر دور کے لوگو ں کا چند ایک سوالات سے واسطہ پڑتا رہا ہے جیسا کہ اس کائنات کا بنانے والا کون ہے ۔؟زمین پر زندگی کا آغاز کسیے ہوا ۔؟ زندگی کا مقصد کیا ہے ۔؟ہم کیوں پیدا ہوئے اور کیو ں مر جاتے ہیں۔؟آیا ان سب

معا ملات کے پس پردہ کو ئی باقاعدہ منصوبہ بندی ہے یا پھر سارا عمل خود بخود ہو رہا ہے ۔ہر دور کے لوگوں میں کائنات کے خالق کو جاننے کا جوش خروش پایا جاتا ہے یہاں ایک اصول واضح کرتا چلوں کہ اگر کوئی شخص کسی مسئلے کا حل تلاش نہ کر سکے تو پھر اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس مسئلے کو مختلف زاویوں سے جانچے ۔ یعنی تمام امکانات کا جائزہ لے ا کثر اوقات دیانتداری سے مسئلہ کو حل کرنے کی کاوش خودبخود ہی مسئلہ کو آسان بنا دیتی ہے ۔لہذا انہی خطوط پر چلتے ہوئے لوگوں میں معاملات زندگی کو سمجھنے کی سوجھ بوجھ پیدا ہو گئی ہے ۔یہ جاننے کیلئے کہ اس کائنات کا خالق کو ن ہے ۔لوگوں نے اس کائنات (آفاق)کی تخلق سے متعلق تحقیق کرنا شروع کر دی۔ کائنات کے راز کو جاننے کیلئے مختلف روش اختیار کی گیں.
لوگو ں کے ایک گروہ نے آفاق کو اپنا مر کز چن کر کائنات کے اسرار کو جاننے کیلئے اسکالرشپ مطالعہ شروع کر دیا نتیجہ نہ صرف قوانین اور مظاہر قد رت کو جانا بلکہ انتہائی مفید مشینری،الیکٹرانکس کے آلات و دیگر ایجادات کا ایک ڈھیر لگا دیا ۔ان تحقیقات کی بدولت سائنس نے ترقی کی اور نت نئی ایجادات کا لا متناہی سلسلہ چل پڑا لہذا مستقل جستجو نے طبعی  اور زیستی  قوانین کے راز فاش کرنے شروع کر دیئے۔سائنس اور ٹیکنالوجی میں پیش رفت کے باعث آجکا جد ید دور ان لوگوں کی مستقل تجقیقات اور جدو جہد کا نتیجہ ہے جنہوں نے اس کائنات کا ظاہری مطالعہ کیا۔یہ تحقیق اپنی مسلسل پیش رفت کے باعث قدرت کے رازوں کو مسخر کرنے پر گامزن ہے .
علاوہ ازیں لوگوں کے دوسرے گروہ نے بجائے اس کے کہ زندگی کی حقانیت کو آفاق میں تلاش کیا جائے خود انہوں نے ایک دوسری روش اختیار کی۔ ان لوگوں کی سوچ تھی کہ ا گراس ظاہری کائنات کا کو ئی خا لق ہے تو انکے وجود کا بھی کوئی خالق ہو گا ؟ لہذا اس سوچ سے وہ بھی اس تخلیق کا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور ہے ۔ اپنی تو جہ کائنات کے ظاہری وجود سے ہٹا کر اپنے وجو د کے اسرار کی کھوج میں لگا دی۔ اس طرح انہوں نے آفاق سے ہٹ کہ مطالعہ نفس میں دلچسپی لی اور اپنی ذات پہ تجربات کا ایک سلسلہ شروع کیا تا کہ اپنے اندر کے رازِ حقیقت کو سمجھا جائے اس طرح سے علم نورانی مذاہب کے سلسلے نے وجود پکڑا یہاں یہ بات واضع کرتا چلوں کہ تمام تجربات انسان کے اپنے یعنی ذہن پہ کئے گئے نہ کہ جسم پہ) پرانے وقتوں میں لوگ یہ تصور کرتے تھے کہ یہ دنیا صر ف چار عناصر سے مل کر بنی ہے ۔زمین، پانی اور آگ اور ہوا، پھر سائنسی ایجادات کا سلسلہ چلا اور زیادہ سے زیادہ انکشافات سامنے آنے لگے اور یہ طے پایا کہ کائنات108عناصر سے ملکر بنی تھی ۔پھر ان 108عناصرکی پیچیدگیوں کے مطالعہ کے بعد یہ اخذ کیا گیا کہ یہ تمام عناصر صرف ایک ذرہ ایٹم سے ملکر بنے ہیں اور ان عناصر میں صرف فرق ایٹم کی ترتیب کا ہے۔ اسکے بعد کی تحقیق نے ثابت کیا کہ ایٹم ہی بنیادی ذرہ نہیں بلکہ الیکٹران ہی وہ بنیادی ذرہ ہے جو تمام دنیا کی اساس ہے۔ تاہم الیکٹران کی دریافت ایک مسئلہ کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔الیکٹران اگرچہ بنیادی ذرہ کہلایا مگر یہ مطلق ذرہ والی فطرت ظاہر نہ کر پایا یعنی ایک وقت میں وہ متحرک بھی تھا اور غیر متحرک بھی۔ کبھی یہ ذرہ کا کردار ادا کرتا اور کبھی ایک لہر کی شکل میں ہوتا۔یہ معاملہ سائنسدانوں کیلئے انتہائی پیچیدہ ہو گیا کہ وہ الیکٹران کی اصل تعریف کیسے کر سکیں ۔لہذا ایک نئی اختر اع سا منے آئی اور الیکٹران دوہری خصوصیت کا حامل ٹھرا ۔ جو کہ لہر کے ذرات ا ور کبھی صرف ذرہ کی خصوصیت کا اظہار کرتا ۔ مگر جب اس الیکٹران پر مزید تحقیق جاری رکھی تو یہ کھوج ایک انتہائی درجے پر پہنچی کہ الیکٹران صرف اور صرف ایک کمترین توانائی کا ذرہ ہے اور یہ توانائی ہی کی خصوصیت ہے جو کہ اپنے آپ کو الیکٹران میں تبدیل کرتی ہے اور بعد میں اس مادے میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ مشہور سائنسدان البرٹ آئینسٹاین کی مساوات E= MC2 بھی تمام مادہ اور توانائی ایک دوسرے میں تبدیل ہونے کے عمل کہ تقویت دیتی ہے۔سائنسدانوں کی تمام تحقیق اب تک ہمیں یہاں تک لانے میں یقینی طور پہ کامیاب ہو ی ہے کہ یہ درخشاں توانائی اپنے بنیادی درجہ پر اس کائنات میں جاری و ساری ہے ۔ جبکہ ہر چیز ایک مخصوص جگہ گھیرتی ہے اور پھر توانائی میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
یہ تو بات ہو رہی تھی ا ن لوگوں کے بارے میں جنہوں نے مسلسل آفاق کی تحقیق سے زندگی کے چند اسرار کا اندازہ لگایا اور ہمیں ہستی کے نئے میدان میں لاکھڑا کیا ۔ اب ان لوگوں کے بارے میں بات کرتے ہیں جنہوں نے نفس کو اپنی تحقیق کا مرکز بنایا اور اپنے جسم و ذات پر یہ تحقیق شروع کر دی اور انہوں نے اپنی توجہ اپنے ا ند ر مرکوز کر دی جسکے نتیجہ میں نفوذ کرنے کے بہت سے طریقہ کار دریافت کیے تا کہ ا پنے اندر کا سفر کرکے اس اکائی کو تلاش کیا جا سکے جو کے انکو اس کائناتی حقیقت سے مربوط کرتا ہے ۔اس کوشش نے علم نورانی (علم مراقبہ) کے عمل کو تقویت دی ۔تمام طریقہ کار جو کہ مختلف طرح سے مراقبہ کے عمل میں نظر آتے ہیں وجود پائے۔ جس کا عمل دخل کم و بیش ہر مذہب کی اساس معلوم ہوتا ہے۔ آ ج مراقبہ کے عمل میں جو جدت اور انواع و اقسام کے طریقہ کار نظر آتے ہیں انہی لوگوں کے مرہون منت ہے جنہوں نے اپنے نفس کو تحقیق کیلئے چنا۔ ان تحقیقات اور مراقبہ کی مختلف حالتوں میں لوگوں نے محسوس کیا کہ اس سارے نظام عالم وجود میں شعوری توانائی کا نفوذ اور منسلکہ رشتہ ہے ۔مراقبہ کی گہری حالتوں میں اب ہر فرد واحد کا واسطہ ایک ا ہم گہرا احساس دلانے وا لے وجود سے پڑا اور یہ اخذ کیا گیا کہ یہ جو سلسلہ کائنات میں توانائی کا عمل دخل نظر آتا ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ ایک اعلی حس آگاہی ہے جس کا اس کائنات میں نفوذ ہے ۔ اب ان تحقیقات مراقبہ اور سائنس میں کبھی کبھی ہم آہنگی ہونے کے ممکنات موجو د ہیں ۔ اس فطرت کی ہر شے کچھ نہیں سوائے ایک مطلق حس آگاہی کے ۔یہ ایک اعلی مطلق خبر آگاہی جسکا ہر طرف نفوذ ہے اور یہی وہ اللہ ہے جو کائنات میں ہمیں اپنی ذات کے اندر اور باہر محسوس ہوتا ہے ۔۔ اللہ نور السموات ولارض ۔۔ ھو ا ول و آخر ظاہر و باطن۔۔ کبھی ہمیں اپنی ذات سے تعلق کاایک رابطہ ملتا ہے کہ ہم اپنے اللہ کو جانیں۔۔من عرفہ نفسہ فقد عرفہ رب۔۔یہاں یہ بات واضع کرتا چلوں کہ اس درجہ کے احساس خود شناسی پہ وحدت الوجود کا مغالطہ نہ ہو، اگلی کسی تحریر میں اس فلسفہ بھی بیان کردوں گا ) ۔ مراقبہ ایک عمل ہے جو اپنی گہری حالتوں میں کسی بھی شخص کیلئے وجود حقیقی سے روابط کا ذریعہ بنتا ہے
علم نورانی یعنی مراقبہ
مدتوں سے لوگ مراقبہ کو ایک انتہائی پرا سرار اور مشکل موضوع سمجھتے رہے ہیں ہمیشہ بڑے بوڑھے اور فار غ لوگوں کو اس کا حقدار سمجھا جاتا رہا ہے ۔ ۔مراقبہ پر پوری دنیا میں سائنسی طریقہ کار کے تحت تجربات کر کے اخذ کر لیا ہے کہ اس عمل سے انسانی ذہن اور جسم پر انتہائی اعلی مثبت اثرات مرتب ہو تے ہیں جس میں تعلیم و عمر کی کوئی قید نہیں اب کوئی بوڑھا ہو یا جوان سب ہی مراقبہ کی کرنے مے دلچسپی رکھتے ہیں مزید برآں اب تو سکول و کالج میں مراقبہ کی تعلیم کو ایک لازمی مضمون کی حیثیت حاصل ہوتی جا رہی ہے کم و بیش پوری دنیا میں مراقبہ کی تربیتی کلاسز کا اجرا ہو چکا ہے اعلی تعلیم یا فتہ ڈاکٹر اور صحتی ادارے اپنے مریضوں کو روزانہ مراقبہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں مراقبہ جو کہ پہلے وقتوں میں صرف مذہب کا حصہ سمجھا جاتا تھا اب دنیاوی پیش قدمی کے علاوہ روز مرہ مسائل کے حل کے لئے بھی مرکزی حیثیت اختیار کر گیا ہے آج پوری دنیا میں ذہنی دبا کو کم کرنے اور ذہنی سکون حاصل کرنے کے لئے مراقبہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہو چکی ہے اور اس کو آج کے وقت میں انتہائی میسر آلہ قرار دے دیا گیا ہے جوں جوں معاشرہ میں اسکی آگاہی بڑھتی جا رہی ہے نتیجہ میں انسانی بھائی چارہ اور عالمی اتحاد میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے جب زیادہ لوگ مراقبہ کی بدولت ذاتی شناسائی حاصل کرتے جائیں گے انکو کائنات کی سچائی اور اصلیت کا قرب حاصل ہو گا اور نتیجہ عالمی بھائی چارہ وجود میں آئے گا۔
عبادت اور مراقبہ میں فرق

مراقبہ اور عبادت میں فرق پر بات کرنے سے پہلے یہ بات قابل توجہ ہے کہ عبادت سے مراد کس مذہب سے ہے؟ اگر یہاں مراقبہ سے مراد تمام مذاہب سے ہے تو پھر اس موضوع پر الگ الگ ہر مذہب کی عبادت سے مراقبے کا موازنہ لازم آتا ہے۔ لیکن پھر ایسی صورت میں اسے ---- عبادت اور مراقبہ میں فرق ---- کے بجائے ---- عبادت اور تعمق میں فرق ---- کہنا زیادہ موزوں ہوگا اور اس کی منطقی وجہ یہ ہے کہ مراقبہ اپنی اصل میں اسلامی پس منظر رکھتا ہے اور مراقبہ اور عبادت میں فرق کی عبارت استعمال کی جائے تو اس سے ذہن میں مراقبہ اور نماز کا فرق ہی آتا ہے جبکہ ہر مذہب میں استعمال ہونے والا ایک تصور ہے گو اس کے ہر زبان میں الگ الگ نام ہیں اور عربی ، فارسی اور اردو تینوں زبانوں میں اس کے لیئے مراقبے کے ساتھ ساتھ تعمِق کا لفظ لغات میں آتا ہے، لغات میں مراقبے کو استبصار بھی کہا جاتا ہے ۔
عبادات میں اللہ سے بات کی جاتی ہے اور اپنا رابطہ ازل سے جوڑا جاتا ہے مگر مراقبہ میں اپنے باطن کی ا تھا ہ گہرائیوں میں جا کر اپنے اللہ کو سنا جاتا ہے اور کائنات کی حقیقت سے نہ صرف شناسا ہوا جاتا ہے بلکہ مشاہدہ قدرت بھی کیا جاتا ہے۔ مراقبہ کا نصب العین (مقصد)صرف اور صرف آپ کے جسم، جذبات ،اور ذہن کو یکجا کرنا ہے اور اس اعلی درجے کی یکسوئی کا مقصد صرف اپنے باطن میں موجزن آگہی کے بحر بیکراں میں غوطہ زن ہونا ہے یہیں سے کشف و وجدان کے دھارے پھوٹتے ہیں ۔ اسطرح ایک انسان کا رابطہ کائنات کی اصل سے جڑ جاتا ہے اور علم و عر فان کے چشمے پھو ٹ پڑ تے ہیں ۔ کامیابیوں کے دروازے کھل جاتے ہیں ۔ اور انسان پستی کے گرداب سے نکل کر ہستی کے نئے میدان میں آ جاتا ہے جہاں ہر طرف بہار ہی بہار ہے ۔بہار بھی ایسی کہ خزاں نہیں ہوتی اور سوچ انسانی آسمان کی بلندی کو چھوتی ہے اور لذت بھی ایسی کہ جیسے روح ستاروں کے درمیاں گزرے
یہی زندگی کا موسم بہار ہے جسکے آ جانے کے بعد ہر طرف کامیابیوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور انسانی سوچ کا سفر ایک نئی سمت گامزن ہو جاتا ہے۔ جسکے سامنے ایک وسیع و اریض میدان عمل ہے اور یہاں کی سلطنت میں صرف آج کی حکمرانی جبکہ گذشتہ کل کی کسی تلخی کا دکھ نہیں اور آنے والے کل کی خوشیوں کا دور دورہ ہے۔یہاں لذت و سرور کا وہ سماں ہے جو کہ دنیا کے کسی نشے میں نہیں ۔ اور خواب حقیقت کے روپ میں بدل جاتے ہیں جبکہ زندگی سوچوں کی تنگ و تاریک گلیوں میں دھکے کھانے کے بجائے روشن اور وسیع میدانوں میں سفر کرتی ہے۔اب اسکا سفر کوئی سڑاند والا جوہڑ نہیں کہ جس میں وہ غوطے کھائے بلکہ ایک بحربیکراں جسکے سفینے صرف کامیابی ،خشحالی اور سکون کی منزل تک لے جاتے ہیں۔
نفس مثلامیں،خودی اور مراقبہ
درحقیقت آپ صرف ایک احساس خودی ہیں۔ اور یہ حس آگاہی ہے نہ کے آپکا ذہن، جسم یا پھر خیالات بلکہ اس مکمل شعوریت ۔۔خودآگاہی۔۔ ہیں جوکہ محسوس کرتی ہے۔ اور شاہد بنی ہوئی ہیں کہ آپ زندگی میں کیا رول ادا کر رہے ہیں۔ یہ احساس خودی اپنی خاصیت کے اعتبار سے انتہائی پر سکون، ٹھہرا والا ،از سرنو زندگی بخشنے والا ہے۔ مراقبہ ایک خودی کو اپنے اندر جاننے کا عمل ہے۔ اس موقع پہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ایک فرد یہ کس طرح جان سکتا ہے کہ اس کے اندر خودی موجود ہے جوان تمام واقعات و حالات کا مشاہدہ کر رہی ہے جو ہمارا ذہن یا جسم اس زندگی میں کر رہا ہے۔ یہ بات یہاں تک واضح ہوگئی کہ مراقبہ ایک ایسا عمل ہے۔ جو ہمیں اپنے اندر موجود خودی سے ملانے کا ذریعہ بنتا ہے اور یہ خودی اپنی خاصیت کے اعتبار سے انتہائی پر سکون، ٹھہرا والی اور از سرنو زندگی بخشنے والی ہے۔ لہذا ہم چاہیںگئے کہ مراقبہ کو سمجھنے کیلئے ہم سب سے پہلے اپنے اندر موجود خودی کو جانیں۔آپ اس خودی کو اور بھی نام دے سکتے ہیں۔ مثلا، نفس، انا وغیرہ آئیے اب ایک چھوٹا سا تجربہ کرتے ہیں جو انتہائی دلچسپی کا حامل ہے اور آپ کے لئے اس میں (میں ) سے شناسا ئی کا ذریعہ بنے گا۔
میں یعنی خودکا انسانی وجود سے تعلق
آپ اپنی آنکھیں بند کر کے کوئی ایک لفظ، کسی کا نام یا اللہ کا نام 25 مرتبہ اپنے ذہن میں دہرائیں مگر گنتی دل ہی دل میں ہونی چاہیے مگر گنتی کرتے ہوئے ذہن میں کوئی اور خیال نہیں آنا چائیے اور اگر گنتی میں کوئی غلطی ہو تو دوبارہ سے گنتی شروع کردیں۔مگر گنتی ذہن میں ہی رہے ناکہ ہاتھوں یا انگلیوں پہ اس تجربہ کے کرنے کے بعد ہوسکتا ہے کہ آپ کامیابی کے ساتھ25 مرتبہ ایک لفظ اپنے ذہن میں گنتے رہے ہونگے اور خیال بھی ذہن میں آتا ہوگا۔ یا ہو سکتا ہے کہ چند خیالات ذہن سے گزرے ہوں۔ یا پھر پہلی کوشش ناکام ہو گئی ہو اور کئی مرتبہ اس تجربہ کو کرنا پڑا ہو تو پھر جا کر 25 مرتبہ کی گنتی پوری ہوئی ہو یا پھر خیالات بھی آ رہے ہوں اور گنتی بھی جاری رہی ہو۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کامیابی کے ساتھ یہ تجربہ نہ کر پائے ہوں کہ آپ 25 مرتبہ کوئی ایک لفظ دہرائیں اور کوئی خیال بھی ذہن میں نہ آئے ۔
مراقبہ اور ذات سے شناسائی
معاملہ کچھ بھی، تجربہ کچھ بھی ہو، بات حقیقت ہے کہ آپ اپنے اندرونی خودی کے وجود کا انکار نہ کرپانیں گے۔ کیونکہ جب آپکا ذہن گنتی میں مصروف تھا تو وہ کون تھا جو مشاہدہ کر رہا تھا کہ ذہن سے خیالات گزر رہے ہیں؟وہ کون تھا جو ایک ہی وقت میں مشاہدہ کر رہا تھا کہ ذہن میں خیالات بھی آ رہے ہیں اور گنتی بھی ہورہی ہے؟ کیونکہ آپ کا ذہن کو یقینا گنتی میں مصروف تھا۔یقینا آپ کہیں گے کہ وہ میں تھا جو دیکھ رہا تھا کہ کوئی خیال ذہن میں آ رہا ہے اور گنتی بھی صحیح ہو رہی ہے۔ وہ کون تھا جو مشاہدہ کر رہا تھا؟ آپ کا جسم یا پھر آپ کا ذہن؟ یا پھر آپ خود؟ اگر آپ یہ سارا عمل دیکھ رہے تھے تو آپ کو اپنے ذہن اور جسم سے علیحدہ ہونا چاہیے۔ جی ہاں! دراصل یہ حس آگاہی ہی تو خودی  ہے جو آ پکو اپنے خیالات تصورات سے آگاہ کرتی اور صرف اور صرف خودی  ہی ہے جو آ پکو بتلاتی ہے کہ آپکے اندر اور باہر کیا ہو رہا ہے؟ کہاں ہو رہا ہے ؟ و دیگر سے آگاہی کا سبب بنتی ۔ اس جاننے والے کو جاننے کا عمل ہی مراقبہ ہے۔ مراقبہ دراصل اپنی ذات سے شناسائی کا عمل ہے .

اسم اللہ ذات کا تصور یعنی مراقبہ بسلسلہ سروری قادری

عنایات:۔حضرت سلطان باہو رحمتہ اللہ علیہ

صاحب تصور اسم اللہ ذات کو چاہیئے۔کہ باوضو صاف ستھرے کپڑے پہن کر پاک جگہ میں تنہا مربع بیٹھے۔اور دل کو تمام غیر خیالات،دنیوی تفکرات و ما سویٰ خیالات سے خالی اور فارغ کردے اور ظاہری وسواسِ شیطانی و خطرات نفسانی کا راستہ بند کرنے کے لیے نیچے لکھے ہوئے کلاموں کو پوری توجہ سے پڑھ کراپنے اوپردم کرلے ۔
تعوذ           الحمد شریف      آیت الکرسی       سورة الکافرون      سورة الاخلاص        تین تین بارپڑھے۔
اور اس کے بعد درود شریف،    کلمہ استغفار        آیت " سلام قولا مِن رب رحِیم"                        آیت شریف ۔وَاللہ المستعان علی ما تصِفون۔۔      کلمہ تمجید۔ سبحان اللہِ والحمدُ لِلہِ وَلَآ اِلہَ اِلا اللہُ واللہ اکبر۔ولاحول ولاقوةاِلا بِاللہِ العلِیِ العظِیم۔        کلمہ توحید ۔۔لآ اِلہ اِلا اللہ وحدہ لاشرِیکَ لہ' لہُ الملک ولہُ الحمدُ یُحْی ویمِیت وھو علی کلِ شی قدیر۔۔              اور                           کلمہ طیب۔لآ اِلٰہَ اِلا اللہ محمد رسول اللہِ۔ہر ایک تین بار پڑھ کر سینے پر دم کرے اور دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں پر دم کر کے تمام بدن پر ہاتھ پھیرلے۔ اس کے بعد آنکھیں بند کر کے حق سبحانہ و تعالی کی پاک ذات کے مشاہدے اور مجلس حضرت سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و مجلس حضرت انبیا و اولیا و یاد موت و آخرت و قبر و حشر نشر وغیرہ تفکرات دل میں جاگزِیںکر ے اور اسم اللہ ذات و اسم محمد سرورِ دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تفکر کی انگلی سے اپنے ماتھے پر اور پھر اپنے دل پر بار بار لکھنے کی کوشش کرے
اور اگر کسی کا نفس سرکش ہواور اس کی سرکوبی مطلوب ہو تو ناف کے مقام پر بھی اِسم اللہ ذات تصور سے لکھے۔اپنی شہادت کی انگلی کو قلم خیال کر کے اِسم اللہ ذات کو ماتھے پر لکھے۔اس سے جذبِ جلالی پیدا ہوگا۔اور اسمِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سینہ پر لکھے۔اس سے جذبِ جمالی حاصل کرے اور ان دونوں مقامات پر اِن اسما کو خوشخط نوری ،سرخ،آفتابی اور سفید روشن ماہتابی رنگ سے موٹا مرقوم یعنی لکھا ہوا خیال کرے۔اور ان پر انگشت تفکر پھیرتا جائے اور ساتھ ہی دل سے پاس انفاس جاری رکھے۔یعنی جب سانس اندر کو جائے،تو ساتھ دل میں لفظ اللہ کہے اور جب سانسس باہر کو نکلے تو دل میں خیال سے لفظ ھو نکلے، اور جب اسم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مشق کرے، تو سانس اندر جاتے وقت محمد رسول اللہ کہے اور سانس باہر آتے وقت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیال سے دل میں کہے۔اس طرح بار بار مشق کرنے سے اِسم اللہ ذات اور اِسم محمد سرورِکائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طالب کے اندر متجلی ہو جائے گا۔جس وقت طالب کے تصور و تفکر اور مرشد کامل کی توجہ وتصرف یعنی طالب کی کوشش اور مرشد کی کشش جب اِسم اللہ ذات پر یکجا و متحد ہو جائیں گے۔تو اس سے جلال کی بجلی پیدا ہو کر طالب کو باطن میں غرق وبے خود کردے گی۔اس وقت باطن میں جو واردات ہوںگی اسے یاد نہیں رہیں گی۔اور اگر اس کو جذب جمالی کی بجلی نے کھینچ لیا ہے تو اس وقت اس کا ذکر نفسی،قلبی،روحی،سِری وغیرہ جاری ہو کر اس کو ہوش و حواس کے ساتھ باطن میں لے جائیں گے اور طالب مجلس حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا مجلس انبیا و اولیا اللہ کے حضور میں مشرف ہوگا۔اگر نقش اِسم اللہ ذات بسبب ہجوم وسواس شیطانی و ظلمت ِ نفسانی دل پر قائم نہ ہو، تو طالب کو چاہیے کہ مشق وجودیہ شروع کرے۔یعنی نقش اسم اللہ ذات کو دماغ کے چاروں خانوںمیں، آنکھوں میں، زبان، ہاتھ کی ہتھیلیوں پر، سینے اور ناف کے اِرد گرد ہر پہلو پر نقش کرے تاکہ شیطان کی قید سے چھوٹ کر پاک و صاف و مزکی ہو جائے اور حضور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مشاہدئہ حق ذات کے قابل ہوجائے۔
سب سے بہتر اور آسان طریقہ یہ ہے کہ اِسم اللہ خوبصورت خط میں کسی کاتب سے لکھوالیا جائے اور اس کے حروف کو دیکھ کر اس کا نقش دل و دماغ میں جمایا جائے۔چاہیئے کہ طالب پھر اس کے تصور میں آنکھیں بند کر کے بیٹھ جائے اور اپنی باطنی توجہ اس پر مرکوز رکھے۔
نقش اسم اللہ ذات اگر جسم کے ہر اندام پر مرقوم کرنے میں دِقت محسوس ہو تو جس مقام پر آسانی سے مرقوم ہو اور جو اِسم کامیابی کے ساتھ اور آسان اور سہل طریقے سے لکھا جاسکے ،پہلے اسی کی مشق کی جائے اور آنکھیں بند کر کے جس جگہ ہو سکے، صرف اِسم اللہ ذات کی تحریر اور اس کے نقش پر اپنی توجہ اور فکر مبذول رکھے۔
شغل تصور اِسم اللہ ذات کے لیے قت کا تعین نہیں ہے، جس وقت چاہے کرسکتا ہے،لیکن سب سے بہتر وقت صبح صادق سے لے کر طلوعِ آفتاب یا چاشت تک ہے۔
اِسم اللہ ذات جس وقت صاحب تصور کے اندر نوری حروف سے مرقوم ہو جاتا ہے تو وہ خود بخود اپنے مخصوص مقام ِجسم کو پکڑ لیتا ہے۔ اِسْمُ اللہِ شَیْ'' طَاھِر'' لَایَستَقِّرُ اِلَّا بِمَکَانٍ طَاھِر''۔ اسم اللہ پاک چیز ہے وہ پاک جگہ میں قیام اور استقرار پکڑتاہے ۔
نیز یاد رہے کہ اگر کسی طالب کی طبیعت کند اور غبی ہو اور اسم اللہ ذات کا تصور اس سے نہ بن سکے ، تو مقابلہ کے لیے ایک اسم اللہ ذات خوشخط تاباں شیشے یا کاغذ پر لکھا ہوا سامنے رکھے اور تصور کرتے وقت اسے اپنے اندر قائم کرے اور دوسرے وقتوں میں اِسی اِسم اللہ ذات کا خیال اور تصور کیا کرے۔ اسی طرح بار بار کرنے سے نقش اسم اللہ ذات قائم ہو جاتا ہے ۔ اگر اس سے زیادہ آسانی مطلوب ہو، تو سلیٹ پر موٹی پنسل یا چاک کے ذریعے رات کو یا دن کو فرصت کے وقت بار بار اسم اللہ ذات لکھے۔ کم از کم روزانہ چھیاسٹھ66 دفعہ لکھے۔اس طرح بھی تصور اسم اللہ ذات جلدی قائم ہو جاتا ہے۔رات کو یا دن کو سونے سے پہلے ضرور تصور اسم اللہ ذات کی مشق کرے یا نقش اسم اللہ ذات کاغذ یا شیشے پر خوشخط لکھا ہوا اپنے سامنے رکھ کر سوتے وقت اس کی طرف گھور گھور کر دیکھے۔ اور بار بار اسے اند جمانے کی کوشش کرے اور اس حالت میں سو جائے،ایسا کرنے سے خواب میں بھی اسم اللہ ذات متجلی اور مرقوم ہوتا ہے۔
تصور کیلیئے سات اسما ہیں کہ جو ہفت گنج باطنی کے لیے بمنزلہ کلید اور کنجیوں کے ہیں اور سات لطیفوں کے لیے ہر اسم علیحدہ علیحدہ ہے۔وہ اسما یہ ہیں:۔اللہ ،للہ،لہ، ھو،محمد،فقر،لآ اِلہ اِلا اللہ محمد رسول اللہِ صلی اللہ علیہِ والِہ وسلم۔
اللہ تعالی کے ننانوے اسما اور حروف تہجی کے تیس حروف کا بھع تصور کیا جاتا ہے اور ان کے علاوہ مختلف نقش وجودیہ مرقوم ہیںجن کا تحریر کرنا باعث طوالت ہے ان کے تصور سے بھی بڑے بھاری باطنی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ اگر طالب کو ان باطنی خزائن کی تفصیل درکار ہو تو،سلطان العارفین حضرت سلطان باہورحم اللہ علیہ کی کتاب ''نورالہدی شریف '' یا ''عقل بیدار شریف ''کا مطالعہ کرے۔
اسم اللہ ذات کے صحیح طور پر تصور کے ذریعے نقش اور مرقوم ہونے کی علامت یہ ہے کہ اسم اللہ ذات مرقوم ہو کر آفتاب کی طرح تجلی دیتا ہے۔اور صاحبِ تصور کو فورا استغراق اور محویت حاصل ہو جاتی ہے۔ اور دل ،روح، یا ۔ سِر کا لطیفہ ذکر اللہ یا ذکر کلمہ طیبہ سے گویا ہو جاتاہے ۔ اور طالب کو اس اِستغراق کے اند کوئی نہ کوئی مشاہدہ اور مکاشفہ ضرور حاصل ہو جاتاہے۔


اسم اللہ ذات

Copyright MyCorp © 2017
Make a free website with uCoz